محمد لادی نامی شخص نے 2008 میں لادی گینگ کی بنیاد رکھی:

0
984

"لادی گینگ”

 

محمد لادی نامی شخص نے 2008 میں اس کی بنیاد رکھی

لادی جیانی (کھوسہ بلوچ) قوم کی ایک شاخ ہے اور جیانی قوم جو سیمنٹ فیکٹری کے ( کوہ سلیمان) پہاڑی سلسلے میں اباد ہے۔اس قوم کی ابادی لاکھوں نفوس پہ مشتمل ہے

اصل مسئلے کی جڑ سیمنٹ فیکٹری ہے۔فیکٹری کے قیام کی بنیادی شرائط میں ہے کہ فیکٹری علاقے کے لوگوں کی تعلیم کا بندوبست کرے گی۔

علاقے کے لوگوں کی نقل وحمل کےلئے راستے کا بندوبست کرے گی۔
اور علاقے میں صاف پینے کا پانی مہیا کرے گی۔
اور اہل علاقہ کو ملازمت اور بجلی دے گی۔

لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ علاقے میں سرداری نظام رائج ہے۔اور فیکٹری کے ٹھیکے سرداروں کے پاس ہیں۔جس کیوجہ سے اگر فیکٹری کچھ دیتی بھی ہے تو وہ کھوسہ سرداروں کی لالچ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔
اصل جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب لادی گینگ کے بانی محمدلادی نے سرداروں سے اہل علاقہ کو فیکٹری میں نوکری دینے کا مطالبہ کیا تب سرادوروں کو اس کی کا یہ مطالبہ پسند نہ ایا تو سرداروں نے ان پہ ناجائز مقدمات بنوا دئیے۔اسی طرح محمد لادی کے بیٹوں بھائیوں بھتیجوں پہ بھی مقدمات بن گئے۔

اب اگر یہ لوگ شہروں کا رخ کرتے تو پولیس ان کا پیچھا کرتی ۔جو پولیس کے ہاتھ اتے ان کو جعلی مقابلوں میں مار دیا جاتا۔تنگ اکر ان لوگوں نے مسلح ہوکرمیدانی علاقوں کا رخ کرنا شروع کر دیا اور ڈکیتیاں بھی شروع کر دیں ۔
اسی دوران محمد لادی کو جندانی لوگوں نے مخبری کرکے مروا دیا ۔۔
یہاں سے جندانی اور لادی میں اپسی دشمنی کا اغاز ہو گیا۔جندانیوں نے چند دنوں تک تو پولیس کی چاپلوسی اور سرداروں کی مدد کے بل بوتے پہ اس دشمنی کو برقرار رکھا مگر جانی نقصان زیادہ ہونے کیوجہ سے اپنی زمینیں اور جائیدادیں بیچ کر علاقہ چھوڑنے کو ترجیح دی۔

ادھر لادی گینگ کو مخبروں نے جب نقصان پہنچایا تو لادیوں نے اعلان کیا کہ اج کے بعد مخبروں اور دھوکے بازوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔مخبری کے شبہہ پر لادی گینگ کے ارکان نے اپنی ساس اور اپنے سسر کو بھی مار دیا تھا۔اسی طرح چند اور لوگوں کو بھی مخبری کے شبہے میں قتل کیا تھا۔۔
اس دوران ہارون لادی نامی شخص جودکان چلاتا تھا اس کے گھر پہ سرداروں نے حملہ کروایا اور ہارون لادی کا بھائ جلال کو زخمی کردیا گیا اور اب تک وہ معزوری کی زندگی بسر کررہا ہے۔تب ہارون نے سرداروں اور جندانیوں کو اپنے نشانے پہ رکھا اور علاقہ چھوڑنے پہ مجبور کیا۔

ادھر لادی گینگ کے لوگوں نے سیمنٹ فیکٹری سے نوکری کا مطالبہ کیا۔نوکری سے انکار پر لادیوں نے کئی دفعہ فیکٹری کا کرش سپلائ کرنا والا پٹا جلایا اور فیکٹری کو بجلی کی سپلائ کرنے والی میں لائن کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا اس طرح فیکٹری کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ۔ فیکٹری کا ٹھیکہ سرداروں کے پاس تھا ۔فیکٹری نے سراداروں سے سیکورٹی سخت کرنے کا کہا تو سرداروں نے لادی والوں کو مارنے کا پلان بنایا ۔

جس شخص کے اعضا کاٹے گئے ہیں یہ خود لادی گینگ کا ساتھی رہ چکا تھا اور اب جرائم چھوڑ چکا تھا۔سرداروں نے تین لوگوں کو پندرہ لاکھ روپے کی افر کی کہ تم لوگ لادیوں کو مارو گے۔اس ادمی کی لادی گینگ سے دوستی اور تعلقات تھے تو اس نے دعوت کا پروگرام بنایا ۔باقی ارکان تو دعوت پہ نہ گئے مگر ہارون لادی چلا گیا۔ان لوگوں نے بے دردی سے اس کو چھریوں کے وار کر کے مارڈالا۔یہاں تک کہ اس کے پاخانے کے مقام کو بھی چھریوں سے کاٹا گیا۔اور اس کی انتیں پیٹ سے باہر نکلی ہوئ تھیں بیس سے زیادہ چھریوں کے وار کئے گئے۔

پھر اس کے بعد اس رمضان نامی ادمی نے باقی لادی ارکان کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
اس کے بعد لادیوں نے ان لوگوں کی بیٹھک پہ حملہ کیا ایک ادمی لڑائ کے دوران مارا گیادو ان کے ہاتھ آگئے۔
ہاتھ انے والے لوگوں میں سے رمضان وہی تھا جس نے دھمکیاں دی تھی تو بدلے اور انتقام میں اس کے ساتھ یہ بہیمانہ سلوک کیا گیا۔

لادی گینگ نے ویڈیو میڈیا پہ اپلوڈ کی اور مخبروں کو کہا گیا کہ مخبر چاہے ہمارا بھائ ہوگا معاف نہیں کیا جائے گا۔
اور اس سے اگلی صورتحال اپکے سامنے ہے حکومت اپریشن کر رہی ہے
آپریشن اتنا اسان نہیں ہوگا۔یہ پہاڑی علاقہ ہے مگر یہاں پہ موبائل سگنل کام نہیں کرتے کیسے مجرمان کو ٹریس کیا جاسکے گا۔
یہاں زمینی راستے بہت مشکل ہیں۔
لادی والوں کے محفوظ ٹھکانے اور پناہ گاہیں ہیں۔

اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس گینگ کی دیکھی دیکھے وہاں کے نوجوانوں حتی کہ کم عمر بچوں میں بھی اسلحہ کا رجحان ہے ۔ہم ایسے پندرہ سال کے نوجوانوں کو بھی جانتے ہیں جن کے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنے مگر ان پہ درجنوں ناجائز مقدمات ہیں۔انہوں نے قانون کے اگے سرینڈر کرنے کی بجائے مسلح ہو کر رہنا شروع کردیا ہے۔

حکومت کو چاہئیے اس علاقے پہ رحم کرتے ہوئے وہاں تعلیم کو عام کیا جائے تاکہ وہاں کا نوجوان قلم اور کتاب سے محبت کرے۔شعور سیکھے اور اسلحہ کلچر کو چھوڑ کر قانون پہ یقین اور اعتماد کرنا سیکھے۔

وہاں کے لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے تاکہ لوگ اپنا انتقام خود لینے کی بجائے قانون سے رجوع کریں۔
وہاں پہ اب بھی لوگ گدھوں پہ میلوں دور پانی بھرنے جاتے ہیں وہاں پہ پانی ان کی دہلیز پہ پہنچایا جائے۔
وہاں صحت کی سہولتیں پیدا کی جائیں

وہاں ان کو راستے مہیا کئیے جائیں تب جاکر گینگوں کا بننا بند ہوگا ۔

Webdesk

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here